روہی نیوز

کراچی میں قوانین کی کھلی خلاف ورزیاں

پلاسٹک بیگز کے استعمال، کچرا پھیلانے، کوڑا جلانے، ملبہ پھینکنے جیسے عام قوانین پر عملدرآمد نہیں ہورہا

علی حیدر

سوشل میڈیا

شائع ہوا · 4 منٹ کا مطالعہ

3.jpg

شہر قائد میں بلدیاتی حکومت کی تشکیل کے بعد شہریوں کی سہولت اور کراچی کی بہتری کیلیے کئی قوانین بنائے گئے تاہم ان پر عملدرآمد مکمل بالکل بھی نظر نہیں آتا۔

یہ ضابطہ فوجداری کے نہیں بلکہ وہ عام قوانین ہیں جن کے ذریعے شہر کی صفائی ستھرائی، شہریوں کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے بلکہ وہ عام قوانین ہیں جن میں شہریوں کی سہولت کو خاص طور پر مدنظر رکھا گیا تھا۔

کراچی میں 15 جون 2025 سے پولیتھن بیگ (پلاسٹک کی تھیلیوں، شاپنگ بیگز) پر پابندی عائد ہے جس کا اطلاق سندھ حکومت کی جانب سے کیا گیا جبکہ میئر کراچی نے اس پر سختی سے عملدرآمد کا اعلان بھی کیا تھا۔

اس قانون کا مقصد ماحولیاتی آلودگی کے تدارک اور اور سیوریج کے نظام کو بہتر بنانا تھا، وزارت ماحولیات سندھ اور کراچی انتظامیہ نے مشترکہ طور پر اس کے اطلاق کا اعلان کیا۔

سندھ انوائرمنٹ پروٹیکشن ایکٹ 2014 کے مطابق اس قانون کی خلاف ورزی پر 50 لاکھ تک جرمانہ جبکہ گرفتاری اور قید کی سزائیں تجویز کی گئیں ہیں۔
قانون بننے کے بعد ابتدا میں تو محکمہ ماحولیات سندھ اور کراچی کی مقامی انتظامیہ متحرک نظر آئی جس میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 12 ٹن سے زائد ممنوعہ پلاسٹک بیگز ضبط کیے گئے جبکہ کئی دکانوں کو سیل بھی کیا گیا۔

تاہم ابتدا میں کچھ سختیوں اور خوف کے بعد اب تقریباً 8 ماہ سے قانون پر کوئی عملدرآمد نظر نہیں آتا البتہ کئی دکانداروں سے جب دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ سوائے پلاسٹک بیگز کے ریٹ بڑھنے کے کچھ نہیں ہوا۔

اس کے علاوہ سڑک، نالے میں کچرا یا ملبہ پھیکنے پر پابندی فروری 2018 میں عائد کی گئی تاہم چند ماہ قبل انتظامیہ نے سخت ایکشن لیتے ہوئے متعدد افراد کو گرفتار کیا۔ اس قانون پر پابندی کا اطلاق یقینی بنانے کیلیے تھانوں کو ایس ایچ اوز کو بھی ایف آئی آر اندراج کا اختیار دیا گیا تھا۔

یہ قانون دستاویز اور سرکاری ریکارڈ کے مطابق قابل اطلاق ہے تاہم شہر کی شاہراہیں، سڑکیں، گلیاں اور بھرے نالوں کی سب کی صورت حال سامنے ہے۔
اس کے علاوہ شہر کی خوبصورتی اور شہریوں کی صحت کو یقینی بنانے کیلیے کچرا جلانے پر پابندی عائد کی گئی تاہم آج بھی شہر میں سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے تحت رکھے گئے ڈبے یا مختص کردہ ڈمپنگ پوائںٹس پر جمع ہونے والے کچرے کو نامعلوم شخص نذر آتش کر کے چلا جاتا ہے اور اس کے دھوئیں تعفن سے سانس لینا تک دشوار رہتا ہے۔

گلستان جوہر بلاک 15، 16، 17، 18 اور دیگر میں تو کچرا جلانا معمول بن گیا ہے، متعدد بار شکایات کے باوجود بھی اس پر کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی تاہم جب بلاک 15 کے مکینوں نے اپنے طور پر سرویلنس شروع کی تو معلوم ہوا کہ آگ لگانے والا کوئی اور نہیں بلکہ عملے کا ہی آدمی ہے جس نے بتایا کہ آگ جلانے کے بعد گاڑی بھیجنے یا کچرا اٹھانے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔

کراچی میں غیر قانونی پارکنگ اور تجاوزات ایک ایسا سنگین مسئلہ ہیں جس پر قابو پانا ناممکن نظر آتا ہے، میئر کراچی نے کے ایم سی کی تمام سڑکوں کو پارکنگ فری تو قرار دیا ہوا ہے مگر صورت حال اس کے مکمل برعکس ہے اور ٹھیکدار آج بھی کئی مقامات پر کے ایم سی کے ماتحت اداروں میں پرائیوٹ لوگ پارکنگ چلا رہے ہیں۔

اس کے علاوہ انکروچمنٹ ایک ایسا عفریت ہے جس نے شہر کے فٹ پاتھ کھا لیے گئے ہیں، انتظامیہ کی جانب سے ان دنوں سخت کریک ڈاؤن تو جاری ہے مگر ایک روز پتھارے اٹھنے کے بعد پھر دوبارہ وہاں پر لگ جاتے ہیں جبکہ بڑے ریسٹورنٹس یا دکانوں کے خلاف اُس انداز کی کارروائی بظاہر نظر نہیں آتی، جس کی کوئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔

باقی اگر سنگین جرائم کی بات کریں تو شہر میں گٹکے، ماوے، منشیات، شیشے، ڈانس پارٹیز، غیر قانونی گیسٹ ہاؤسز پر سخت پابندی کے باوجود بھی شہر میں یہ چیزیں دستیاب ہیں اور یہ سب جن کی پشت پناہی سے ہورہا ہے وہ جانتے بھی ہیں۔

ہوسکتا ہے کہ اس تحریر کے بعد ایک دو روز کیلیے پابندیوں پر اطلاق نظر آئے مگر اسے وقتی نہیں بلکہ دائمی ہونا ضروری ہے تاکہ انتظامیہ کی رٹ بحال ہو۔

اب آپ کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا ہوگا کہ قوانین پر اطلاق کیوں نہیں ہوتا اور اس کی کیا وجہ ہے؟ کیا مافیاز زیادہ طاقتور ہیں؟ اس کا آسان اور سادہ جواب ہے کہ کوئی کتنی ہی بڑی مافیا یا گروپ ہو وہ حکومت سے زیادہ طاقتور کسی بھی صورت نہیں ہوسکتا، بشرطیکہ تدارک کیلیے سنجیدگی سے اقدامات کیے جائیں۔

ان قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ ایک تو وہ سسٹم ہے جس کا اشارہ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کیا جبکہ ایک دوسرا سسٹم ہے جس کو سیاسی اور دیگر اہم شخصیات کی پشت پناہی حاصل ہے۔

قوانین بنانے اور اطلاق کے معاملے میں حکمرانوں کی نیتوں پر شک نہیں کیا جاسکتا البتہ یہ بھی ضروری ہے کہ کام کی زیادتی ، بوجھ یا انتظامی معاملات کو تقسیم کیا جائے اور پھر میرٹ پر ایسے لوگ عہدوں پر بیٹھائے جائیں جنہیں ٹھیکدار یا لیبر گھما نہ سکے اور وہ شہر کی ہر گلی سے واقف ہو۔

اس کے علاوہ شہر کی ذمہ داری حکمرانوں اور انتظامیہ کے علاوہ شہریوں اور اُن کو بھی لینی پڑے گی جو بے شک آج اقتدار میں نہیں، ایسا نہیں ہوسکتا کہ شہر سے صرف اُسی وقت محبت کی جائے جب اقتدار آپ کے پاس ہو۔