امریکا نے جاسوسی کے الزام میں دو چینی شہریوں کو قید کی سزا سنا دی
دونوں نے عدالت میں غیرملکی حکومت کے ایجنٹ کے طور پر خفیہ طور پر کام کرنے کے الزامات کا اعتراف کیا
امریکا میں وفاقی عدالت نے چین کی وزارتِ ریاستی سلامتی کے لیے خفیہ انٹیلی جنس سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے اعتراف پر دو چینی شہریوں لیرن “ریان” لائی، اور یوانس چن کو 30،30 ماہ قید کی سزا سنادی ہے۔
دونوں کو سزا کے بعد مزید تین سال تک نگرانی میں رہنا ہوگا۔ امریکی محکمہ انصاف کے مطابق دونوں افراد نے چینی انٹیلی جنس کے لیے امریکی فوجی اہلکاروں اور تنصیبات سے متعلق معلومات حاصل کرنے اور امریکی فوج، خصوصاً نیوی سے وابستہ افراد کو ممکنہ انٹیلی جنس اثاثوں کے طور پر بھرتی کرنے کی کوشش کی۔
دونوں نے عدالت میں غیرملکی حکومت کے ایجنٹ کے طور پر خفیہ طور پر کام کرنے کے الزامات کا اعتراف کیا تھا۔
تحقیقات کے مطابق اس نیٹ ورک میں “ڈیڈ ڈراپ” طریقہ استعمال کرتے ہوئے خفیہ نقد رقوم بھی منتقل کی گئیں۔ ایک کارروائی میں تقریباً 10 ہزار ڈالر اور بعد میں مزید 20 ہزار ڈالر کی رقم مخصوص مقامات پر خفیہ طور پر پہنچائی گئی.
چن پر امریکی بحری تنصیبات، فوجی اہلکاروں اور ممکنہ انٹیلی جنس اہداف سے متعلق معلومات اور تصاویر جمع کرنے کا بھی الزام تھا۔