روہی نیوز

ضرورت پڑی تو ایران کی جوہری تنصیبات پر 10 منٹ میں حملہ کر سکتے ہیں، ٹرمپ

تہران معاہدہ کرنے کے بعد اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ جاتا ہے، امریکی صدر

علی حیدر

سوشل میڈیا

شائع ہوا · 1 منٹ کا مطالعہ

45.png

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی ایک یا دو جوہری تنصیبات اب بھی امریکی کارروائی کی زد میں آنے سے باقی ہیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں صرف 10 منٹ میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے اور ایران معاہدہ کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے تاہم واشنگٹن اس معاملے میں کسی قسم کی جلد بازی نہیں کرنا چاہتا۔

امریکی صدر نے ایران کے طرزِعمل پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تہران معاہدہ کرنے کے بعد اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ جاتا ہے اس لیے اسے زیادہ قابلِ بھروسا نہیں سمجھتے۔ انہوں نے کہا کہ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایران واقعی کسی معاہدے پر پہنچتا ہے یا نہیں۔

ایران پر دوبارہ حملوں سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے اسے بے وقوفانہ سوال قرار دیا، تاہم دعویٰ کیا کہ امریکا پہلے ہی ایران کی بحریہ، فضائیہ، فضائی دفاعی نظام اور متعدد جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کی ایک یا دو جوہری تنصیبات پر کارروائی ابھی باقی ہے اور اگر ضرورت محسوس ہوئی تو امریکی فوج انتہائی مختصر وقت میں انہیں نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔