سمندر میں پلاسٹک تھیلیاں اور کچرا سمندری حیات کی بقا کے لیے خطرہ
آج سے 20 سال قبل اولیوریڈلے کچھوا پاکستان میں بڑی تعداد میں ملتا تھا
کلفٹن کے ساحل پر نایاب نسل کا سمندری کچھوا مردہ حالت میں پایا گیا ہے.
مردہ پایا گیا کچھوا اولیو ریـڈلے نسل کا ہےجو بحیرہ عرب میں کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں. کچھوا سمندر یا کسی جال میں پھنسنے کے سبب مرا ہے.
اولیو ریڈلے نسل کے کچھووں نے افزائش نسل کے لیے کراچی سمیت پاکستانی ساحلوں کا رخ کرنا چھوڑ دیا، آج سے 20 سال قبل اولیوریڈلے کچھوا پاکستان میں بڑی تعدادمیں ملتاتھا.
حالیہ دنوں میں جیوانی کے قریب ماہی گیروں کے جال میں پھنسے 2 اولیوریڈلے کچھووں کو سمندر میں آزاد کیا جا چکا ہے.
اس نسل کا کچھوا سمندر میں ہزاروں میل کا سفر طے کرتا ہے.پڑوسی ملک میں ایک اولیو ریڈلے کچھوے کو جی پی ایس ٹیگ لگا کر اس کے سمندری سفر پر تحقیق کی گئی، اس دوران پتہ چلا کہ اس کچھوے نے ٹیگ لگنے کے بعد پورے بحیرہ عرب کو عبور کیا اور اومان میں جاکر افزائش نسل کے لیے قیام کیا.
پاکستان میں بھی اس نوعیت کی تحقیق ضروری ہے،کلفٹن ساحل پر نایاب سمندری کچھوے کی ہلاکت پر فشرمین سجاگ فورم نے اظہارِ افسوس کیا.
سمندری کچھوے کی موت کی حتمی وجہ معلوم نہیں ہوسکی، چیئرمین فشرمین سجاگ فورم کا کہنا تھا کہ سمندر میں پلاسٹک کی تھیلیاں اور کچرا سمندری حیات کی بقا کے لیے خطرہ ہیں، سمندری حیات کا تحفظ اور ماہی گیروں کے روزگار کے مواقع برقرار رکھنا ضروری ہے.