بریکنگ نیوز
روہی نیوز روہی نیوز خبر کی روح

2 پڑوسیوں کے درمیان 200 سال پرانا جائیداد کا تنازع انٹرنیٹ پر وائرل

علی حیدر

سوشل میڈیا

شائع ہوا · 2 منٹ کا مطالعہ

444589_3907353_updates.jpg

ویسے تو اکثر جائیدادوں کے مقدمات برسوں تک چلتے ہیں۔


مگر کیا آپ یقین کریں گے کہ چین میں جائیداد کا ایک معاملہ 2 صدیوں بعد جاکر اب حل ہوا اور انٹرنیٹ پر وائرل ہوگیا۔

جی ہاں واقعی چین کے صوبے شانسی کے علاقے شیان کی ایک عدالت میں ایسا مقدمہ زیرسماعت رہا جو عرصے سے وجہ تنازع بنا ہوا ہے۔

2 پڑوسی خاندان ایک دوسرے سے اس کے لیے ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں۔

شیان کی عدالت میں حال ہی میں ایک مقدمے کی سماعت ہوئی جو ایک زمینی حد کے تنازع پر مبنی تھا۔

گزشتہ 2 دہائیوں سے یہ پڑوسی خاندان اس زمینی حد کے لیے عدالتی جنگ لڑ رہے ہیں۔

مقدمہ یہ تھا کہ جب ڈیوس نے اپنے کچن کو تزئین نو کرتے ہوئے ایک دیوار کھڑی کرنے کی کوشش کی تو پڑوسی زینگ نے اعتراض کیا۔

پڑوسی کا اعتراض تھا کہ اس سے ان کے گھر آنے والی روشنی رک جائے گی جبکہ نکاسی آب کا نظام متاثر ہوگا۔

یہ جھگڑا بہت جلد جسمانی لڑائیوں میں تبدیل ہوگیا۔

پولیس اور دیہی کمیٹی نے درجنوں بار ثالثی کی کوشش کی مگر کچھ بھی نہ ہوسکا۔

ایسی ہی ایک کوشش کے دوران زینگ نے ایسے ثبوت پیش کیے جس نے ہر ایک کو دنگ کر دیا۔

یہ جائیداد کی منتقلی کی دستاویز تھی جو کہ شہنشاہ Qianlong کے عہد کی تھی جو 1735 سے 1796 تک چین پر حکمرانی کرتے رہے تھے۔

اس پرانے کاغذ پر سیاہی سے لکھا گیا تھا جو اب بھی پڑھا جاسکتا ہے۔

2 پڑوسیوں کے درمیان 200 سال پرانا جائیداد کا تنازع انٹرنیٹ پر وائرل
یہ وہ پرانی دستاویز ہے / فوٹو بشکریہ Sina

زینگ نے کہا کہ یہ راضی نامہ دونوں خاندانوں کے درمیان زمین کی حد کے لیے ہوا تھا۔

زینگ کا ماننا ہے کہ اس راضی نامے کا اطلاق آنے والے تمام نسلوں پر ہوگا۔

حکام کو پھر احساس ہوا کہ یہ کوئی چند برس نہیں بلکہ 200 سال سے بھی زیادہ پرانا زمینی تنازع ہے۔

گزشتہ 2 صدیوں کے دوران ان خاندانوں کی متعدد نسلوں کے درمیان زمینی حد کے لیے لڑائی ہوچکی ہے۔

مگر عدالت زمین کی حد کا تعین 1781 کی دستاویز کی بنیاد پر نہیں کرسکتی تھی اور اسی وجہ سے اس نے اس عہد کی ایک اور دستاویز کو حاصل کیا۔

یہ اس زمانے کے ایک سیاستدان اور عالم کا خط تھا جس میں اس نے اپنے خاندان پر زور دیا تھا کہ پڑوسی سے زمینی تنازع کو حل کیا جائے۔

اس خط میں اس عالم نے لکھا تھا کہ آخر 3 فٹ زمین کیوں نہیں چھوڑ دیتے؟

ایسا کہا جاتا ہے کہ اس خط کو پڑھ کر خاندان نے رضا کارانہ طور پر اپنی دیوار کو 3 فٹ پیچھے کرلیا تھا جبکہ پڑوسیوں نے بھی ایسا کرتے ہوئے اپنی دیوار کو 3 فٹ پیچھے کرلیا۔

ان دونوں دیواروں سے وسطی چین کے علاقے Tongcheng میں ایک 6 فٹ کا راستہ بن گیا جو اب سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔

انتظامیہ کی جانب سے گھروں کی پیمائش بھی کی گئی ہے تاکہ تزئین نو کا ایسا پلان تیار کیا جاسکے جو دونوں خاندان تسلیم کرسکیں۔

اس کے نتیجے میں دیوس نے کامیابی سے اپنے کچن کو نیا بنالیا اور زینگ نے اسے پرامن انداز سے تسلیم کرلیا۔

اس طرح 200 سال سے زائد پرانا تنازع آخرکار حل ہوگیا۔